امریکہ، جنوبی کوریا اور جاپان نے ہفتے کے روز شمالی کوریا کو “مکمل طور پر جوہری ہتھیاروں سے پاک” کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پیانگ یانگ واشنگٹن کے ساتھ ممکنہ مذاکرات سے قبل تخفیف اسلحہ کے مطالبے کو مسلسل مسترد کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریائی رہنما کم جونگ ان کے درمیان آئندہ ماہ چین میں ہونے والے ایپک سربراہی اجلاس میں ممکنہ ملاقات کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں، جبکہ ٹرمپ پیانگ یانگ کو جوہری مذاکرات کے لیے بارہا پیشکش کر چکے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون اور ان کے جاپانی ہم منصب توشیمتسو موتیگی نے جمعہ کو امریکہ کی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں جی 20 اجلاس کے موقع پر ہونے والی بات چیت کے دوران شمالی کوریا کو مکمل طور پر جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر “مکمل عمل درآمد” کا بھی عہد کیا، جس میں شمالی کوریا کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگراموں کے لیے آمدنی کی حمایت پر پابندی بھی شامل ہے۔
اقوام متحدہ کی طویل عرصے سے جاری پابندیوں کے باوجود، روس اور چین کی حمایت یافتہ شمالی کوریا نے قانون میں اپنی جوہری مسلح ریاست کی حیثیت کو شامل کر لیا ہے، اور اس کی حکومت بارہا اپنے جوہری ہتھیاروں کو مستقل اور ناقابل واپسی قرار دے چکی ہے۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ پیانگ یانگ کو جوہری مذاکرات کے لیے بارہا پیشکش کر چکے ہیں، جبکہ اتحادی جنوبی کوریا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں کمی بھی کی ہے۔ گزشتہ سال، امریکی صدر نے طویل عرصے سے جاری امریکی پالیسی سے انحراف کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا تھا کہ شمالی کوریا پہلے ہی “ایک طرح کی جوہری طاقت” بن چکا ہے۔


