وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبے میں طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں کو فی الحال معطل کرنے اور فوری نوعیت کے قلیل المدتی اقدامات پر توجہ مرکوز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے 13 سالہ دور میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ صوبے کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر، ایسے منصوبوں پر توجہ دینا ضروری ہے جو عوام کو فوری ریلیف فراہم کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ تیرہ سالوں کے دوران، صوبے میں حکمرانی کی ناکامیوں اور غلط ترجیحات کی وجہ سے عوام کی بنیادی ضروریات کو نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وزیراعظم نے صوبے کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے ایک نئی حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور بے پناہ نقصانات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی ہے، جس میں ہزاروں جانوں کا ضیاع اور معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان شامل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں اور ان کی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
وزیراعظم نے صوبے کی سیاسی صورتحال پر بھی تبصرہ کیا اور کہا کہ گورنر راج جیسے اقدامات کی نوبت نہ آئے، اس کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے جمہوری اقدار کی پاسداری اور آئینی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے مسائل کے حل پر زور دیا تاکہ صوبے میں استحکام اور ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔




