لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری، جو پاکستان مسلح افواج کے میڈیا اور تعلقات عامہ کے شعبے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل ہیں، نے 30 اکتوبر 2026 کو راولپنڈی میں رائٹرز کو ایک انٹرویو دیا۔ اس انٹرویو کے دوران انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں “مثبت پیش رفت” کی نشاندہی کی اور کہا کہ پاکستان اس معاملے میں “محتاط پرامید” ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے عالمی برادری کو درپیش اس اہم مسئلے پر پاکستان کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تعمیری بات چیت کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا یہ بیان خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی مستقل کاوشوں کا عکاس ہے۔ “مثبت پیش رفت” کا اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ابتدائی بات چیت اور رابطوں میں کچھ حوصلہ افزا علامات نظر آئی ہیں، جو مستقبل میں مزید پیش رفت کا باعث بن سکتی ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے واضح کیا کہ پاکستان کی “محتاط پرامیدی” اس حقیقت پر مبنی ہے کہ اگرچہ پیش رفت ہو رہی ہے، لیکن ابھی بھی بہت سے چیلنجز موجود ہیں جن پر قابو پانا ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس پیچیدہ صورتحال میں صبر اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا مقصد خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے، اور اس کے لیے وہ تمام فریقین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ ثالثی کی کوششیں نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں بلکہ وسیع تر علاقائی سلامتی پر بھی مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔




