ملک میں گیس کے بڑھتے ہوئے بحران کے پیش نظر، نئے گھریلو گیس کنکشنز پر پابندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے ہزاروں افراد متاثر ہوں گے جو فوری کنکشن کے لیے اضافی فیس ادا کرنے کے باوجود طویل عرصے سے انتظار میں ہیں۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سردیوں کے مہینوں میں گیس کی قلت شدت اختیار کر چکی ہے، جس سے گھریلو صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی طلب اور رسد میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کے لیے یہ سخت فیصلہ لینا پڑا ہے۔ اس پابندی کا بنیادی مقصد موجودہ صارفین کو گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا ہے، تاہم اس سے نئے گھرانوں اور تعمیراتی شعبے کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ گیس کمپنیوں کے مطابق، ملک میں گیس کے ذخائر میں کمی اور درآمدی ایل این جی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بھی اس بحران کی اہم وجوہات ہیں۔
ہزاروں درخواست گزاروں نے، جن میں سے بہت سے افراد نے فوری کنکشن حاصل کرنے کے لیے اضافی فیسیں بھی ادا کر رکھی ہیں، اس فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو گیس کے بحران سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اپنانی چاہیے تاکہ شہریوں کو بنیادی سہولیات سے محروم نہ کیا جائے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ جب تک گیس کی پیداوار اور درآمد میں اضافہ نہیں ہوتا، یہ بحران برقرار رہے گا اور نئے کنکشنز پر پابندی جیسے اقدامات صرف عارضی حل ثابت ہوں گے۔

