بھارت میں اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے سربراہ کے فوری استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک بڑا جلسہ منعقد کیا۔ یہ جلسہ ملک بھر میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے عمل پر جاری شدید احتجاج کے تناظر میں منعقد کیا گیا ہے، جس کے بارے میں اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ یہ لاکھوں ووٹرز کو انتخابی عمل سے دور رکھنے کی سازش ہے۔
اپوزیشن جماعتوں کا موقف ہے کہ ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کا یہ عمل شفاف نہیں ہے اور اس کا مقصد سیاسی مفادات کے حصول کے لیے ووٹرز کو فہرستوں سے خارج کرنا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس مشق کے نتیجے میں تقریباً 130 ملین (13 کروڑ) ووٹرز کو ووٹر لسٹوں سے خارج کر دیا جائے گا، جس سے آئندہ انتخابات کی شفافیت اور غیر جانبداری پر سنگین سوالات اٹھیں گے۔
ملک کے مختلف حصوں میں اس ووٹر لسٹ نظرثانی کے خلاف احتجاجی مظاہرے شدت اختیار کر چکے ہیں۔ اپوزیشن رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے سربراہ پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ آئندہ انتخابات غیر جانبدارانہ اور منصفانہ طریقے سے منعقد ہو سکیں اور تمام شہریوں کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کا موقع ملے۔






