امریکہ میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک ایسے اٹارنی جنرل کی تقرری کے بعد، جسے ان کے ‘خوابوں کا اٹارنی جنرل’ قرار دیا جا رہا ہے، ملک کے محکمہ انصاف کی ساکھ پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تقرری نے ملک کے عدالتی نظام میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں انصاف کی غیر جانبداری اور قانون کی بالادستی کو خطرہ لاحق محسوس ہو رہا ہے۔
ملک کے قانونی حلقوں اور سیاسی مبصرین کی جانب سے یہ تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ محکمہ انصاف اس وقت ‘اخلاقی گراوٹ’ کا شکار ہے۔ یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اٹارنی جنرل کا عہدہ، جو کہ انصاف کی غیر جانبداری اور قانون کی بالادستی کا ضامن ہوتا ہے، اب سیاسی مفادات کے تابع ہو کر رہ گیا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ پر پہلے ہی کئی محاذوں پر اختیارات کے غلط استعمال اور عدالتی عمل میں مداخلت کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔
اس صورتحال کے امریکہ کے جمہوری اداروں اور عوام کے عدالتی نظام پر اعتماد پر گہرے اور منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر محکمہ انصاف کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھتے رہیں گے تو یہ ملک میں قانون کی حکمرانی کے بنیادی اصولوں کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں اور کیا محکمہ انصاف اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر پاتا ہے یا نہیں۔






