امریکی سینیٹر مارکو روبیو نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ واشنگٹن نے افغانستان سے پھیلنے والی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے تحفظات کو “سن لیا” ہے اور اگر “ہمارے لیے کوئی تعمیری کردار ہوا تو ہم اسے ادا کریں گے”۔ روبیو کا یہ بیان اٹلانٹا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں سامنے آیا۔
روبیو نے وضاحت کی کہ “پاکستان افغانستان کے علاقے سے سرپرستی پانے والے دہشت گردانہ حملوں کے بارے میں فکرمند ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ طالبان نے ان حملوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے، اور پاکستان نے اس کے خلاف کارروائی کی ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “ہم نے یقیناً ان کے تحفظات سنے ہیں۔ ہم یقیناً نہیں چاہتے کہ انہیں دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے۔ لہٰذا، اگر ہمارے لیے کوئی تعمیری کردار ہوا تو ہم اسے ادا کریں گے۔” روبیو نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے افغان طالبان کے ساتھ “ضروری نہیں کہ قریبی تعلقات” ہوں، تاہم انہوں نے زور دیا کہ “ہم نے پاکستان کے اٹھائے گئے تحفظات کو سنا ہے اور ہم نے ان حملوں میں سے کچھ کو دیکھا ہے جن کی وہ نشاندہی کرتے ہیں۔ ہم دہشت گردی کے خلاف ہیں چاہے وہ کہیں سے بھی جنم لے اور کسی کو بھی نشانہ بنائے۔”
اسلام آباد نے کابل میں طالبان انتظامیہ پر بارہا زور دیا ہے کہ وہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرے، خاص طور پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (TTP) سے منسلک ٹھکانوں کو، جن کے بارے میں پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں حملوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ دوسری جانب، افغان طالبان نے TTP اور دیگر گروہوں کے بارے میں کوئی واضح موقف اختیار کرنے سے گریز کیا ہے، جبکہ اسلام آباد کے الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔


