اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر پٹرول کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے۔ جیو نیوز کے مطابق، پٹرولیم ڈویژن کے دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وفاقی کابینہ نے 30 اکتوبر کو اس نظرثانی شدہ فارمولے کی منظوری دی تھی۔ یہ اقدام ملک میں توانائی کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
یہ نیا طریقہ کار درآمد شدہ اور مقامی طور پر تیار کردہ دونوں قسم کے پٹرول پر لاگو ہوگا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق، اس تبدیلی کا بنیادی مقصد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی غیر مستحکم صورتحال کے پیش نظر، ملک میں پٹرول کی قیمتوں کو زیادہ شفاف اور مستحکم بنانا ہے۔ یہ تبدیلیاں خاص طور پر موٹر سپرٹ (پٹرول) پر لاگو ہوں گی تاکہ صارفین اور تیل کمپنیوں دونوں کے لیے ایک متوازن نظام قائم کیا جا سکے۔
پاکستان جیسے درآمدی تیل پر انحصار کرنے والے ملک کے لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں استحکام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس نئے فارمولے کی منظوری ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ملک کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہے اور حکومت توانائی کی قیمتوں کو عوام کے لیے قابل برداشت رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نظرثانی شدہ فارمولا مستقبل میں پٹرول کی قیمتوں کے تعین میں زیادہ لچک اور شفافیت لائے گا، جس سے عالمی واقعات کے اثرات کو بہتر طریقے سے سنبھالا جا سکے گا۔
