یوکرین میں روسی افواج کی جانب سے کیے گئے تازہ حملوں کے نتیجے میں ہزاروں شہری بجلی سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب خیرسون کے علاقے میں نافذ العمل انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ ان حملوں نے یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس سے سرد موسم میں شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
اس سے قبل، ایک نایاب انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی نے شہریوں کو روسی زیرِ قبضہ شہر اولیشکی سے انخلا کی اجازت دی تھی۔ یہ جنگ بندی، جو کہ عارضی نوعیت کی تھی، شہریوں کو محفوظ راستے فراہم کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی تاکہ وہ جنگ زدہ علاقوں سے نکل سکیں۔ اولیشکی، جو کہ خیرسون کے قریب واقع ہے، طویل عرصے سے روسی قبضے میں ہے اور وہاں کے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
جنگ بندی کے خاتمے کے بعد روسی حملوں میں شدت آ گئی ہے، جس کا براہ راست نشانہ یوکرین کے توانائی کے مراکز بنے ہیں۔ بجلی کی فراہمی میں تعطل سے نہ صرف گھروں میں اندھیرا چھا گیا ہے بلکہ پانی کی فراہمی اور حرارتی نظام بھی متاثر ہوئے ہیں، جو کہ سردیوں میں زندگی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ بین الاقوامی مبصرین نے ان حملوں کو جنگی جرائم قرار دیا ہے، جبکہ روس کا دعویٰ ہے کہ وہ فوجی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔





