اسرائیل میں یشر پارٹی کے رہنما گادی آئزن کوٹ نے اعلان کیا ہے کہ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے حالیہ انتخابی نتائج کو بدنام کرنے کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ آئزن کوٹ نے یہ بیان ایسے وقت میں دیا ہے جب ملک ایک غیر یقینی سیاسی صورتحال سے دوچار ہے، جہاں کسی بھی بڑے بلاک کو حکومت بنانے کے لیے واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
یشر پارٹی کے رہنما نے انتخابی کمیشن کے سربراہ کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان یقین دہانیوں کا مقصد انتخابی عمل کی شفافیت اور درستگی پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ اسرائیلی سیاست میں موجودہ تعطل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ دائیں بازو اور بائیں بازو کے کسی بھی بڑے اتحاد کو حکومت سازی کے لیے مطلوبہ نشستیں حاصل نہیں ہو سکی ہیں، جس کے بعد مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے پیچیدہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔
آئزن کوٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی سیاست دانوں پر ایک مستحکم حکومت تشکیل دینے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔ نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی اور اس کے اتحادیوں کو بھی حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل نہیں ہو سکی ہے، جس سے ملک میں ایک اور عام انتخابات کا امکان بڑھ گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آئزن کوٹ کا یہ دعویٰ نیتن یاہو کی انتخابی نتائج پر سوال اٹھانے کی حکمت عملی کو کمزور کر سکتا ہے اور نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔


