پاکستان میں بنیادی مہنگائی کی شرح اکتوبر میں نمایاں کمی کے بعد 7.5 فیصد پر آ گئی ہے۔ یہ ایک ایسی پیش رفت ہے جو ملک کی معاشی صورتحال کے لیے مثبت سمجھی جا رہی ہے۔ بنیادی مہنگائی، جو کہ خوراک اور توانائی جیسی غیر مستحکم اشیاء کی قیمتوں کو خارج کر کے حساب کی جاتی ہے، معیشت میں پائیدار قیمتوں کے رجحانات کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ کمی اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے جواز کے باوجود سامنے آئی ہے۔ مرکزی بینک نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا تھا، تاہم بنیادی مہنگائی میں یہ غیر متوقع کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاشی دباؤ میں کچھ حد تک کمی واقع ہوئی ہے اور مستقبل میں شرح سود میں ممکنہ کمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب، معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود اور مہنگائی کے درمیان بڑھتا ہوا فرق بینکوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں بینکوں کے منافع میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ وہ زیادہ شرح سود پر قرضے فراہم کر رہے ہیں جبکہ ان کے ڈپازٹس پر لاگت نسبتاً کم ہے۔ یہ رجحان مالیاتی شعبے میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے کہ آیا اس فرق کو کم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عام صارفین اور کاروباری اداروں کو بھی فائدہ پہنچ سکے اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

