امریکی ریاست جارجیا میں ریپبلکن سینیٹ کے اہم رن آف انتخابات قریب آ رہے ہیں، جہاں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی اور ان کی خاموشی دونوں ہی نمایاں ہیں۔ اس دوڑ میں، جس کا مقصد ڈیموکریٹک سینیٹر جون اوسوف کو چیلنج کرنا ہے، صدر ٹرمپ نے ابھی تک رکن کانگریس مائیک کولنز یا سابق فٹ بال کوچ ڈیرک ڈولی میں سے کسی کی بھی باضابطہ حمایت کا اعلان نہیں کیا ہے۔
سابق صدر ٹرمپ کی حمایت ریپبلکن امیدواروں کے لیے، خاص طور پر پرائمری یا رن آف انتخابات میں، انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ ان کی جانب سے اس اہم انتخابی دوڑ میں حمایت کا اعلان نہ کرنا سیاسی مبصرین اور ووٹروں دونوں میں تجسس اور قیاس آرائیوں کو جنم دے رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ٹرمپ کا اثر و رسوخ اب بھی پارٹی کے اندر کتنا گہرا ہے۔
مائیک کولنز اور ڈیرک ڈولی دونوں ہی ٹرمپ کے حامیوں کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس امید پر کہ وہ ان کی حتمی حمایت حاصل کر سکیں یا کم از کم ان کی مخالفت سے بچ سکیں۔ اس رن آف کا نتیجہ نہ صرف جون اوسوف کے ریپبلکن حریف کا تعین کرے گا بلکہ یہ صدر ٹرمپ کے پارٹی کے اندر دیرپا اثر و رسوخ کا بھی ایک پیمانہ ثابت ہوگا، چاہے وہ عہدہ چھوڑ چکے ہوں۔ آنے والے دنوں میں ٹرمپ کا کوئی بھی فیصلہ یا ان کی مسلسل خاموشی، اس انتخابی دوڑ کے نتائج پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔





