مالیاتی نظم و ضبط کسی بھی ملک کی معیشت کی بنیاد ہوتا ہے، اور اس کی پاسداری حکومتوں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تاہم، جب ضمنی بجٹ کا استعمال اس طرح کیا جائے کہ پارلیمنٹ اخراجات کی منظوری اس وقت دے جب رقم پہلے ہی خرچ ہو چکی ہو، تو یہ مالیاتی ڈسپلن کا سراسر مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ یہ عمل نہ صرف مالیاتی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ حکومتی اداروں کی مالیاتی ذمہ داری پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔
ایسا طریقہ کار پارلیمنٹ کے بنیادی کردار کو کمزور کرتا ہے، جو کہ عوامی فنڈز کے استعمال پر نظر رکھنا اور اس کی منظوری دینا ہے۔ جب اخراجات پہلے ہی ہو چکے ہوں تو پارلیمنٹ کی منظوری محض ایک رسمی کارروائی بن کر رہ جاتی ہے، جس کا کوئی حقیقی اثر نہیں ہوتا۔ یہ غیر ذمہ دارانہ مالیاتی رویے کی حوصلہ افزائی کرتا ہے اور احتساب کے تصور کو دھندلا دیتا ہے۔ اس سے نہ صرف مالیاتی شفافیت متاثر ہوتی ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے کہ ان کے ٹیکس کے پیسے کا استعمال کس طرح کیا جا رہا ہے۔
اس صورتحال کے ملک کی معیشت اور مالیاتی استحکام پر گہرے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مالیاتی قوانین کی سختی سے پابندی کی جائے اور ضمنی بجٹ کے استعمال کو صرف ہنگامی اور ناگزیر حالات تک محدود رکھا جائے۔ پارلیمنٹ کو اپنے مالیاتی اختیارات کو مؤثر طریقے سے استعمال کرنا چاہیے تاکہ عوامی وسائل کا درست اور ذمہ دارانہ استعمال یقینی بنایا جا سکے اور مالیاتی نظم و ضبط کو بحال کیا جا سکے۔ یہ مالیاتی ذمہ داری اور شفافیت کے اصولوں کو برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے۔





