اسلام آباد – پاکستانی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں ملک کے پراپرٹی سیکٹر کے لیے بڑے ٹیکس ریلیف کی تجویز پیش کی ہے۔ اس تجویز کے تحت، ٹیکس فائلرز کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد تمام ٹیکسز کو ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ اقدام رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کو دوبارہ زندہ کرنے اور اس میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے کیا جا رہا ہے، جس سے معیشت کو تقویت ملنے کی امید ہے۔
حکومت کا ماننا ہے کہ پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر ٹیکسز کے خاتمے سے مارکیٹ میں سرگرمی بڑھے گی، جس سے نہ صرف تعمیراتی شعبے کو فائدہ ہوگا بلکہ اس سے منسلک دیگر صنعتوں میں بھی تیزی آئے گی۔ یہ اقدام روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور مجموعی اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اس تجویز کا مقصد پراپرٹی سیکٹر میں شفافیت لانا اور غیر دستاویزی معیشت کو دستاویزی شکل میں لانے کی ترغیب دینا بھی ہے۔
تاہم، یہ تجویز عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری مذاکرات میں ایک اہم نکتہ بن گئی ہے۔ آئی ایم ایف عام طور پر ٹیکس بیس کو وسیع کرنے اور حکومتی آمدنی بڑھانے پر زور دیتا ہے، جبکہ یہ تجویز ٹیکس آمدنی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ حکومت کو آئی ایم ایف کو اس اقدام کے طویل مدتی فوائد، سرمایہ کاری میں اضافے اور اس کے متبادل آمدنی کے ذرائع کے بارے میں قائل کرنا ہوگا تاکہ بجٹ کو حتمی شکل دی جا سکے۔


