اسلام آباد: اقتصادی سروے 2025-26 کے مطابق، پاکستان میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فیصد ہو گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں تقریباً ہر 100 میں سے 29 افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ملک کی معاشی صورتحال کی سنگینی کو نمایاں کرتے ہیں۔
سروے میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت کی پیمائش کسی فرد کے کم از کم بنیادی اخراجات پورے کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ سرکاری معیار کے تحت، ایک شخص کو خط غربت سے نیچے تصور کیا جاتا ہے اگر وہ اپنی خوراک، رہائش، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہو۔
غربت کی شرح میں یہ اضافہ ملک کی معاشی صورتحال اور عام شہریوں کو درپیش چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری اس اضافے کی بڑی وجوہات ہیں، جو حکومت کے لیے معاشی استحکام اور عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت پر زور دیتی ہیں۔




