اسلام آباد نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے پاکستان کے پانی کو روکنے کی کوئی کوشش کی تو اسے “جنگ کا عمل” سمجھا جائے گا اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ یہ انتباہ پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیا گیا ہے، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ پانی کی بندش کی کسی بھی کوشش کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جائے گا اور اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت کی جانب سے پاکستان کے حصے کے پانی کو روکنے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ دریائے جہلم پر واقع یوری-II ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے ڈیم کا حوالہ دیتے ہوئے، جو مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں یوری کے قریب سے آزاد کشمیر کی طرف بہتا ہے، پاکستان نے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس حساس معاملے کا نوٹس لے اور بھارت کو ایسے کسی بھی اقدام سے باز رہنے پر آمادہ کرے جو خطے میں کشیدگی کو بڑھاوا دے سکتا ہے۔ پاکستان کا موقف ہے کہ پانی کی تقسیم کے معاہدوں کی خلاف ورزی بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہوگی اور اس کے علاقائی امن و استحکام پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔




