مقبوضہ مشرقی یروشلم میں اسرائیلی حکام کی جانب سے فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری کا سلسلہ جاری ہے، جس کا مقصد ایک پارک کی تعمیر کے لیے جگہ بنانا ہے۔ ان انہدامی کارروائیوں میں حالیہ اضافے نے فلسطینی آبادی میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے، جو اپنے مستقبل کو تباہ ہوتا دیکھ رہے ہیں۔
فلسطینی شہری ان کارروائیوں کو اپنے مستقبل کی تباہی قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف مکانات کی مسماری نہیں بلکہ ان کی شناخت، تاریخ اور جڑوں کو اکھاڑنے کی کوشش ہے۔ بے گھر ہونے والے خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں گہری تشویش میں مبتلا ہیں۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام انہیں اپنے ہی وطن میں بے گھر کر رہے ہیں اور ان کے پاس جانے کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے ان اسرائیلی انہدامی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی آبادی کو بے دخل کرنے اور آبادیاتی توازن کو تبدیل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ مشرقی یروشلم میں مسماریوں میں اضافہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے، اور یہ صورتحال مزید تناؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

