عالمی شہرت یافتہ برطانوی مصور ڈیوڈ ہاکنی 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں۔ فن کی دنیا میں انسانی شکل کو دوبارہ بحال کرنے کا سہرا ان کے سر ہے۔ ہاکنی نے اپنے منفرد انداز اور رنگین فن پاروں سے فن کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔
ان کی رنگین اور تصویری پینٹنگز بیک وقت قدامت پسندانہ اور باغیانہ نوعیت کی حامل تھیں۔ انہوں نے 20ویں صدی کے وسط میں فن پر چھائی ہوئی تجریدی (abstract) تحریکوں کو چیلنج کیا اور فن کو ایک نئی سمت دی۔ ہاکنی نے اپنے کام کے ذریعے انسانی وجود، اس کے ماحول اور روزمرہ کی زندگی کے خوبصورت پہلوؤں کو اجاگر کیا۔
ہاکنی نے ایک ایسے دور میں فن کو انسانی وجود اور اس کی کہانیوں سے دوبارہ جوڑا جب تجریدی فن (abstraction) اپنے عروج پر تھا۔ ان کے کام نے نہ صرف فن کی روایتی حدود کو توڑا بلکہ اسے ایک نئی جہت بھی دی، جس سے فنکاروں کی ایک نئی نسل کو اپنے انداز میں کام کرنے کی ترغیب ملی۔ ان کی وفات سے فن کی دنیا ایک عظیم ستارے سے محروم ہو گئی ہے، لیکن ان کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا۔

