امریکہ، ایران اور ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان کا کہنا ہے کہ فریقین کے درمیان دشمنی کے خاتمے کی راہ ہموار کرنے والا معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ اس معاہدے کا مقصد خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنا اور امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔
ایرانی حکام نے اس معاہدے کو آبنائے ہرمز کی بحالی سے مشروط قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، جو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے ایک انتہائی اہم آبی گزرگاہ ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش یا اس میں رکاوٹ عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
اس پیش رفت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے اور طویل عرصے سے جاری تنازعات کے حل کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان نے اس معاہدے کو حتمی شکل دینے میں ثالثی کا کلیدی کردار ادا کیا ہے، جس سے اس کی سفارتی کوششوں کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس معاہدے کے حتمی اعلان اور اس کے عملی نفاذ پر مرکوز ہیں۔

