اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے لیے تمام قانونی تقاضے مکمل کرنے والے بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد یہ بل باقاعدہ قانون بن گیا ہے۔ اس اقدام کو قومی ایئر لائن کی نجکاری کے عمل میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جو طویل عرصے سے زیر التواء تھا۔
یہ بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیا گیا تھا۔ سینیٹ نے اسے 10 جون 2026 کو منظور کیا تھا جبکہ قومی اسمبلی نے 11 جون کو اس کی منظوری دی تھی۔ پی آئی اے کی نجکاری کا عمل ایک وسیع تر اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کا مقصد قومی ایئر لائن کو مالی استحکام فراہم کرنا اور اس کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
نجکاری کے اس عمل کے تحت، عارف حبیب کارپوریشن کی قیادت میں ایک کنسورشیم نے پی آئی اے میں 75 فیصد حصص حاصل کر لیے ہیں۔ صدر کی جانب سے بل کی منظوری کے بعد، نجکاری کے عمل میں مزید تیزی آنے کی توقع ہے اور یہ پی آئی اے کے مستقبل کے لیے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔


