وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اپوزیشن جماعتوں کو مذاکرات کی پیشکش کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ “کبھی دیر نہیں ہوتی”۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو سنگین سیاسی اور اقتصادی چیلنجز کا سامنا ہے، اور قومی یکجہتی اور اتفاق رائے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو ایک میز پر بیٹھنا ہو گا۔
وزیراعظم نے اپنے پیغام میں واضح کیا کہ مذاکرات کا مقصد ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالا تر ہو کر قومی مفاد کو ترجیح دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے سیاسی محاذ آرائی کو ترک کر کے تعمیری مکالمے کی راہ اپنانا ضروری ہے۔ شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر مستقبل کی جانب دیکھنا چاہیے اور تمام فریقین کو ملک کو درپیش بحرانوں سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی یہ پیشکش ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کو کم کرنے اور ایک مستحکم سیاسی ماحول پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ اس پیشکش کا مقصد نہ صرف موجودہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانا ہے بلکہ آئندہ کے لیے ایک ایسا سیاسی کلچر پروان چڑھانا ہے جہاں اہم قومی معاملات پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس پیشکش پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں۔


