اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں نجی بینکوں کو قانونی جواز کے بغیر صارفین کے اکاؤنٹس بلاک کرنے سے روک دیا ہے۔ عدالت نے ایک نجی بینک کو بغیر کسی معقول وجہ کے ایک شہری کا اکاؤنٹ منجمد کرنے کی غلطی تسلیم کرنے پر 3 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ صارفین کے حقوق کے تحفظ اور بینکوں کی من مانی کارروائیوں پر قدغن لگانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
عدالت عالیہ کے جسٹس بابر ستار کیانی نے اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ کوئی بھی بینک کسی بھی شہری کا اکاؤنٹ بغیر کسی ٹھوس قانونی بنیاد یا عدالتی حکم کے بلاک نہیں کر سکتا۔ انہوں نے زور دیا کہ بینکوں کو اپنے صارفین کے مالی معاملات میں شفافیت اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے۔ اس فیصلے کا مقصد بینکوں کی جانب سے اختیارات کے ناجائز استعمال کو روکنا اور صارفین کو غیر ضروری پریشانیوں سے بچانا ہے۔
یہ معاملہ ایک شہری کی درخواست پر سامنے آیا تھا جس میں اس نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے بینک اکاؤنٹ کو بغیر کسی پیشگی اطلاع یا وجہ بتائے بلاک کر دیا گیا تھا، جس سے اسے شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نجی بینک نے عدالت میں اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ اکاؤنٹ بلاک کرنے کی کوئی ٹھوس قانونی وجہ موجود نہیں تھی اور یہ کارروائی انتظامی غلطی کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ عدالت نے بینک کے اس اعتراف کو مدنظر رکھتے ہوئے ہرجانے کا حکم صادر کیا۔
اس فیصلے کو بینک صارفین کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ یہ بینکوں کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے اور صارفین کے حقوق کا احترام کرنے پر مجبور کرے گا۔ ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوگا اور بینکوں کو مزید ذمہ داری سے کام کرنے کی ترغیب دے گا۔ یہ عدالتی حکم مالیاتی نظام میں اعتماد کو بحال کرنے اور صارفین کو تحفظ فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔


