واشنگٹن ڈی سی میں واقع مشہور کینیڈی سینٹر سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نام ہٹا دیا گیا ہے۔ یہ اقدام ایک عدالتی فیصلے کے بعد کیا گیا ہے جس میں جج نے ٹرمپ کی حمایت یافتہ بورڈ کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا جس کے تحت صدر کا نام عمارت پر شامل کیا گیا تھا۔
عدالتی فیصلے کے مطابق، جج نے قرار دیا کہ کینیڈی سینٹر کے بورڈ آف ٹرسٹیز، جسے ٹرمپ نے خود مقرر کیا تھا، نے صدر کا نام شامل کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ قانونی طور پر درست نہیں تھا۔ جج کا کہنا تھا کہ اس طرح کے کسی بھی اقدام کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری ضروری ہے، جو اس معاملے میں حاصل نہیں کی گئی تھی۔ اس فیصلے کے بعد، سینٹر کے عملے نے فوری طور پر ٹرمپ کا نام ہٹانے کا کام شروع کر دیا ہے۔
کینیڈی سینٹر امریکہ کے سب سے نمایاں ثقافتی اداروں میں سے ایک ہے، جو پرفارمنگ آرٹس کے فروغ کے لیے وقف ہے۔ اس فیصلے کو عوامی اداروں کے ناموں سے متعلق قواعد و ضوابط کی پاسداری کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومتی اداروں کے ناموں میں تبدیلی یا اضافہ کرنے کے لیے مناسب قانونی طریقہ کار اور منظوریوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور کسی بھی انتظامی بورڈ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر ایسے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔



