اسرائیل میں ایک ممکنہ معاہدے کے حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے، حالانکہ اس معاہدے کی مکمل تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ یہ معاہدہ ایران کی جانب سے درپیش بنیادی سکیورٹی خطرات کو نظر انداز کر سکتا ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ سیاسی سپیکٹرم کے تمام دھڑوں سے تعلق رکھنے والے افراد اس بات پر متفق ہیں کہ یہ معاہدہ ایران کی طرف سے لاحق بنیادی سکیورٹی خطرات کو حل کرنے میں ناکام نظر آتا ہے۔ ان خطرات میں ایران کا جوہری پروگرام، اس کی علاقائی پراکسیز کی حمایت اور اسرائیل کے خلاف اس کی جارحانہ بیان بازی شامل ہیں۔ عوام اور سیاستدانوں کا ماننا ہے کہ کسی بھی معاہدے کو ان بنیادی خدشات کو مکمل طور پر دور کرنا چاہیے۔
یہ قبل از وقت تنقید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسرائیلی عوام اور سیاسی قیادت میں ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کے حوالے سے گہرے تحفظات موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وسیع پیمانے پر عدم اطمینان کی وجہ سے معاہدے کی منظوری اور اس پر عمل درآمد میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں، اور حکومت کو عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے مزید وضاحتیں پیش کرنا پڑ سکتی ہیں۔


