لاہور ہائی کورٹ کے ایک بینچ کے رکن جسٹس علی ضیاء باجوہ نے سابق وفاقی وزیر اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما مونس الہٰی کے خلاف جائیداد منجمد کرنے اور انہیں اشتہاری قرار دینے سے متعلق کیس کی سماعت سے معذرت کر لی ہے۔ جسٹس باجوہ نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اس اہم مقدمے کی مزید کارروائی سے خود کو الگ کر لیا ہے، جس کے بعد اب یہ کیس نئے بینچ کو منتقل کیا جائے گا۔
مونس الہٰی، جو سابق وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے صاحبزادے ہیں، منی لانڈرنگ اور دیگر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے خلاف وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) سمیت مختلف اداروں نے مقدمات درج کر رکھے ہیں۔ عدالت نے انہیں اشتہاری قرار دے رکھا ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے ملک سے باہر ہیں اور عدالتی کارروائی میں پیش نہیں ہو رہے۔ ان کی جائیدادیں منجمد کرنے کا معاملہ بھی زیر سماعت ہے، جس پر قانونی جنگ جاری ہے۔
جسٹس علی ضیاء باجوہ کی معذرت کے بعد، اب لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو اس مقدمے کی سماعت کے لیے ایک نیا بینچ تشکیل دینا ہوگا۔ اس پیش رفت سے مونس الہٰی کے خلاف جاری قانونی کارروائی میں مزید تاخیر کا امکان ہے۔ یہ کیس ملک میں سیاسی شخصیات کے خلاف احتساب کے جاری عمل کا ایک اہم حصہ ہے اور اس کے نتائج پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔






