لاہور: پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال 2024-25 کے لیے ٹیکس وصولی کا ایک انتہائی پرجوش ہدف مقرر کیا ہے، جس کے تحت صوبائی محصولات میں 42 فیصد اضافے کا منصوبہ ہے۔ اس اقدام کا مقصد صوبے کی مالی خود مختاری کو مضبوط بنانا اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے اپنے وسائل پر انحصار بڑھانا ہے۔
ذرائع کے مطابق، آئندہ مالی سال کے لیے صوبائی ٹیکس وصولی کا مجموعی ہدف تقریباً 440 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ہدف رواں مالی سال 2023-24 کے نظرثانی شدہ ہدف 310 ارب روپے سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اس اضافے کا حصول پراپرٹی ٹیکس، موٹر وہیکل ٹیکس، سروسز پر سیلز ٹیکس، سٹیمپ ڈیوٹی اور لینڈ ریونیو جیسے مختلف ذرائع سے کیا جائے گا۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی (PRA)، بورڈ آف ریونیو (BoR) اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ اس ہدف کے حصول میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس ہدف کے حصول سے صوبہ وفاقی حکومت پر انحصار کم کر سکے گا اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر زیادہ خرچ کر سکے گا۔ ٹیکس بیس کو وسیع کرنے، وصولی کے نظام کو بہتر بنانے، اور ٹیکس چوری کو روکنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹلائزیشن کا استعمال کیا جائے گا۔ یہ اقدام پنجاب کی معیشت کو مستحکم کرنے اور شہریوں کو بہتر خدمات فراہم کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔


