پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی مرکز کراچی میں بسوں کی ہڑتال آج دوسرے روز بھی جاری ہے، جس کے باعث لاکھوں شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہر کی سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی نے روزمرہ کے معمولات کو بری طرح متاثر کیا ہے، اور لوگ اپنی منزلوں تک پہنچنے کے لیے متبادل ذرائع تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔
کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہڑتال حکام کے ساتھ جاری مذاکرات میں کسی پیش رفت نہ ہونے کے باعث کی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹرز اپنے مطالبات پر قائم ہیں جن میں کرایوں میں اضافہ، گاڑیوں کے پرمٹ سے متعلق مسائل، اور بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کے پیش نظر حکومتی امداد شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، ہڑتال جاری رہے گی۔ حکومتی نمائندوں کی جانب سے تاحال کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
ہڑتال کے نتیجے میں، خاص طور پر مزدور طبقہ اور طلباء سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ شہر کے مختلف بس اسٹاپس پر مسافروں کی بڑی تعداد کو گھنٹوں انتظار کرتے دیکھا گیا، جبکہ رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیورز نے صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانے کرائے وصول کیے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مذاکرات کرکے اس مسئلے کا حل نکالے تاکہ ان کی مشکلات کم ہو سکیں۔ توقع ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں حکام اور ٹرانسپورٹ اتحاد کے درمیان مزید بات چیت ہوگی۔


