سوشل میڈیا پر ایک نیا اور متنازع رجحان سامنے آیا ہے جہاں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ کرداروں کو ڈاؤن سنڈروم کے ساتھ مصنوعات کی تشہیر کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان اکاؤنٹس کے پیچھے موجود افراد اور اداروں کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ ان کا بنیادی مقصد صرف منافع کمانا ہے۔ یہ رجحان تیزی سے پھیل رہا ہے اور صارفین کے درمیان تشویش کا باعث بن رہا ہے۔
اس عمل پر اخلاقی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈاؤن سنڈروم جیسی طبی حالت کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے بلکہ یہ ان افراد اور ان کے خاندانوں کے جذبات کو بھی مجروح کر سکتا ہے جو اس حالت سے متاثر ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ایسے کرداروں کو تخلیق کرنا جو کسی طبی حالت کی نمائندگی کرتے ہوں، اس کے غلط استعمال کا باعث بن سکتا ہے اور حقیقی افراد کی غلط تصویر کشی کر سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور ریگولیٹری اداروں کو اس بڑھتے ہوئے مسئلے پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ صرف ڈاؤن سنڈروم تک محدود نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے حساس موضوعات کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا ایک وسیع تر مسئلہ ہے۔ اس کے لیے سخت رہنما اصول اور پالیسیاں وضع کرنا ضروری ہے تاکہ ایسے غیر اخلاقی طریقوں کو روکا جا سکے اور صارفین کو گمراہ کن یا استحصال پر مبنی مواد سے بچایا جا سکے۔

