ایران کے نائب وزیرِ خارجہ اور سینئر مذاکرات کار عباس عراقچی نے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے آگاہ کیا ہے کہ امریکہ کے ضرورت سے زیادہ مطالبات خطے میں امن مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک امریکہ اپنی غیر حقیقی شرائط سے دستبردار نہیں ہوتا، کسی بھی بامعنی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
عراقچی نے سیکرٹری جنرل کو ایران کے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) سے یکطرفہ دستبرداری اور اس کے بعد عائد کی جانے والی سخت پابندیاں، تہران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہیں جو کہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات کے لیے ہمیشہ تیار ہے لیکن یہ مذاکرات احترام اور برابری کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، نہ کہ دھونس اور دھمکی کے ذریعے۔ ایران کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جو اس کے قومی مفادات اور خودمختاری پر سمجھوتہ کرے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارتی حل کی تلاش جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کا تعمیری کردار ادا کرنا ناگزیر ہے۔ ایران نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکہ پر دباؤ ڈالے تاکہ وہ اپنی غیر لچکدار پالیسیوں پر نظر ثانی کرے اور مذاکرات کی میز پر حقیقت پسندانہ رویہ اپنائے۔




