تہران نے امریکہ کے ساتھ آئندہ مذاکرات میں لبنان کے تنازع کو سرفہرست ایجنڈے کے طور پر رکھنے کا دوٹوک اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے درمیان مختلف علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر کشیدگی برقرار ہے، اور ان مذاکرات کو تعلقات میں بہتری کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
تہران کا مؤقف ہے کہ لبنان میں جاری سیاسی و اقتصادی بحران اور علاقائی اثر و رسوخ کے تناظر میں یہ مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، لبنان میں استحکام اور امن کی بحالی کے لیے امریکہ کے ساتھ بات چیت ضروری ہے۔ اسماعیل بقائی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان مذاکرات میں ایران کے منجمد یا محدود رسائی والے مالی اثاثوں کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا۔ یہ اثاثے، جو بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے روکے گئے ہیں، ایران کی معیشت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں اور تہران ان کی جلد رہائی کا خواہاں ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ لبنان اور مالی اثاثوں جیسے حساس معاملات پر پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم، ان مذاکرات کی کامیابی کا انحصار فریقین کی لچک، علاقائی حقائق اور ماضی کی پیچیدگیوں کو حل کرنے کی صلاحیت پر ہوگا۔ یہ بات چیت مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے نئی راہیں ہموار کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے دونوں فریقوں کو ٹھوس اقدامات اور مشترکہ مفادات پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔
