واشنگٹن: امریکی نائب صدر نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو یہود دشمنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور غزہ میں جاری تنازع کے باعث اسرائیل پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ نائب صدر نے واضح کیا کہ کسی بھی ملک کی حکومت کی پالیسیوں پر جمہوری تنقید کا حق ہر فرد کو حاصل ہے اور اسے کسی خاص مذہب یا قوم کے خلاف نفرت سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔
اس بیان کو امریکہ کی خارجہ پالیسی میں ایک ممکنہ تبدیلی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر اسرائیل-فلسطین تنازع کے حوالے سے۔ نائب صدر نے زور دیا کہ یہود دشمنی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کا مقابلہ کیا جانا چاہیے، لیکن اسرائیلی حکومت کے اقدامات پر جائز تنقید کو اس کے ساتھ خلط ملط کرنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہود دشمنی اور اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ دونوں مسائل کو مؤثر طریقے سے حل کیا جا سکے۔
اسی تناظر میں، سیاسی مبصرین کے مطابق، سینیٹر جے ڈی وینس کا ایک حالیہ بیان بھی ان کے ماضی کے مؤقف کے مقابلے میں ایک نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ وینس، جو پہلے اسرائیل کے حوالے سے ایک سخت گیر مؤقف رکھتے تھے، اب زیادہ متوازن نقطہ نظر اپنا رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان امریکی سیاست میں اسرائیل کے بارے میں بڑھتے ہوئے متنوع خیالات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں اب حکومتی پالیسیوں پر تنقید کو زیادہ کھلے دل سے قبول کیا جا رہا ہے۔ یہ پیش رفت امریکہ کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے کردار اور اس کی پالیسیوں پر جاری بحث کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔
