روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین پر ایک طلبہ کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ یہ دھمکی روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا باعث بن سکتی ہے، جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ پوٹن نے خبردار کیا ہے کہ روس اپنی سرزمین پر ہونے والے کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔
دوسری جانب، یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ماسکو کے زیر قبضہ ایک علاقے میں روس کے اشرافیہ روبیکون ڈرون فوجی یونٹ کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔ کیف کا کہنا ہے کہ یہ یونٹ روسی افواج کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل تھا اور اس پر حملہ ایک اہم فوجی کامیابی ہے۔ یوکرینی حکام نے اس حملے کی تفصیلات فراہم کی ہیں، تاہم روسی حکام کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔
دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے پر حملوں کے یہ متضاد دعوے میدان جنگ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ آزاد ذرائع سے ان دعووں کی فوری تصدیق ممکن نہیں، تاہم یہ صورتحال خطے میں تناؤ میں مزید اضافے کا باعث بن رہی ہے اور بین الاقوامی برادری کی تشویش میں اضافہ کر رہی ہے۔




