عدیل صدیقی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آبادی کی منصوبہ بندی کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کی معاشی کامیابیوں اور ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ یہ انتباہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک پہلے ہی کئی اقتصادی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، اور آبادی میں بے تحاشا اضافہ ان چیلنجز کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، آبادی میں بے قابو اضافہ وسائل پر شدید دباؤ ڈالتا ہے۔ تعلیم، صحت، خوراک، پانی اور رہائش جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے، غربت کی شرح بڑھتی ہے اور معیار زندگی متاثر ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے، جہاں پہلے ہی محدود وسائل ہیں، آبادی کا یہ بے تحاشا پھیلاؤ پائیدار ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی داؤ پر لگا رہا ہے۔
عدیل صدیقی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آبادی کی منصوبہ بندی کو محض ایک سماجی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اسے ایک قومی سلامتی اور معاشی ترجیح کے طور پر دیکھا جائے۔ اس کے لیے جامع پالیسیاں وضع کی جائیں، خاندانی منصوبہ بندی کی خدمات تک رسائی کو آسان بنایا جائے، اور عوامی آگاہی مہمات چلائی جائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو پاکستان کی معاشی ترقی کی تمام کوششیں رائیگاں جا سکتی ہیں اور ملک کو طویل مدتی سماجی و اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


