وزیراعظم شہباز شریف ہفتہ کو چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر ہانگژو پہنچ گئے۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم آفس (پی ایم او) کے مطابق، ان کے ہانگژو ژیاؤشان بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچنے پر صوبہ ژیجیانگ کے وائس گورنر شو وینگوانگ نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر چین میں پاکستان کے سفیر خلیل ہاشمی اور پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائیڈونگ بھی وزیراعظم کے استقبال کے لیے موجود تھے۔
پی ایم او کے مطابق، وزیراعظم ہانگژو میں قیام کے دوران ژیجیانگ پارٹی کے سیکرٹری وانگ ہاؤ سے ملاقات کریں گے۔ اپنے ہانگژو کے دورے کی تفصیلات بتاتے ہوئے، پی ایم او نے کہا کہ وزیراعظم چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک 2.0) کے دوسرے مرحلے کے تحت پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے مقصد سے ایک بزنس فورم میں شرکت کریں گے۔ وہ معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) کے تبادلے کی تقریب میں بھی حصہ لیں گے۔
پی ایم او نے مزید بتایا کہ وزیراعظم اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے معروف چینی کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران (سی ای اوز) سے ملاقات کریں گے اور علی بابا گروپ کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کریں گے۔ دورے میں وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ اور وزیراعظم کے مشیر طارق فاطمی بھی شامل ہیں۔
ایک روز قبل، دفتر خارجہ (ایف او) نے اعلان کیا تھا کہ وزیراعظم 23 سے 26 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کریں گے۔




