پاکستان کی چین کو برآمدات میں رواں سال کے ابتدائی مہینوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ابتدائی 2024 کے دوران پاکستان کی چین کو برآمدات 48.7 فیصد کے نمایاں اضافے کے ساتھ 1.55 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی تعلقات اور پاکستان کی برآمدی صلاحیت میں بہتری کا عکاس ہے۔
اس برآمدی ترقی میں چین کے مختلف صوبوں کا اہم کردار رہا ہے، جن میں ژیجیانگ (Zhejiang) صوبہ پاکستانی مصنوعات کے لیے سب سے بڑی منزل کے طور پر ابھرا ہے۔ ژیجیانگ صوبے نے پاکستانی برآمدات کے حجم میں سب سے زیادہ حصہ ڈالا ہے، جو اس خطے میں پاکستانی اشیاء کی بڑھتی ہوئی مانگ کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ پاک-چین آزاد تجارتی معاہدے (فیز II) اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت جاری منصوبوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے، جنہوں نے پاکستانی مصنوعات کے لیے مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنایا ہے۔
برآمدات میں یہ نمایاں اضافہ پاکستان کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور تجارتی خسارے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ حکومت اور کاروباری حلقے اس ترقی کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ چین کی وسیع مارکیٹ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے۔ توقع ہے کہ آئندہ برسوں میں پاکستان اپنی برآمدی مصنوعات کی تنوع اور معیار کو بہتر بنا کر چین کے ساتھ اپنے تجارتی حجم میں مزید اضافہ کرے گا، جس سے دونوں دوست ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری مزید مضبوط ہوگی۔



