اسلام آباد: ملک بھر میں ایل پی جی مافیا نے صارفین سے مبینہ طور پر 60 سے 70 ارب روپے بٹور لیے ہیں، جس کی وجہ ایل پی جی کو سرکاری نرخ 309 روپے فی کلو کے مقابلے میں 600 روپے فی کلو سے زائد پر فروخت کرنا ہے۔ مہنگائی کی چکی میں پسے شہریوں کو ریکارڈ بلند قیمتوں پر ایل پی جی خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو کہ مقررہ حد سے تقریباً دو گنا زیادہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق، ایل پی جی مافیا توانائی کے بحران کا فائدہ اٹھا رہا ہے، جس سے ملک پہلے ہی شدید معاشی مشکلات اور ایندھن کی قلت کا سامنا کر رہا ہے۔ اس صورتحال نے عام آدمی کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی ایل پی جی کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے اور مافیا اس کا ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ حکومتی سطح پر مقرر کردہ قیمتوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں یہ غیر معمولی اضافہ نہ صرف گھریلو صارفین بلکہ چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بن رہا ہے، جو ایندھن کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔ حکام کی جانب سے اس مافیا کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور عوام کی جانب سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔



