اسلام آباد — وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور ایران کے درمیان حال ہی میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے جوڑنے والی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے میں میزائل سے متعلق کوئی شق شامل نہیں ہے۔ وزیراعظم نے عالمی برادری کے دوہرے معیار پر بھی شدید تنقید کی، خاص طور پر اس حوالے سے کہ کس طرح اسٹریٹجک دفاعی صلاحیتوں کو دیکھا جاتا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے یہ وضاحت ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران کی، جہاں انہوں نے ان تمام تجاویز کو یکسر مسترد کر دیا جو اس ایم او یو کو ایران کے دفاعی پروگرام سے منسلک کر رہی تھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور اپنے دفاعی معاملات میں کسی بھی قسم کے دباؤ کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر بعض ممالک کی دفاعی صلاحیتوں کو ایک نظر سے دیکھا جاتا ہے جبکہ دوسروں کی صلاحیتوں پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، جو کہ دوہرا معیار ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کا بنیادی مقصد دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانا، تجارت، اقتصادی تعاون اور سرحدی سلامتی کو فروغ دینا ہے۔ اس معاہدے کا دفاعی یا میزائل پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور تعاون کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔



