ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے “غداری، تضادات اور ضرورت سے زیادہ مطالبات” جوہری مذاکرات کو متاثر کر رہے ہیں اور ان میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ پر گہرے عدم اعتماد کے باوجود، ایران نے سفارتی عمل میں دوبارہ شمولیت اختیار کی ہے۔ یہ مذاکرات ویانا میں جاری ہیں جن کا مقصد 2015 کے جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کو بحال کرنا ہے۔
عراقچی کے بیان سے ان مذاکرات کی پیچیدگی اور حساسیت واضح ہوتی ہے جو عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان جاری ہیں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ امریکہ نے یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی اور اس کے بعد ایران پر نئی پابندیاں عائد کی تھیں، جو کہ ‘غداری’ کے مترادف ہے۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ امریکہ تمام پابندیاں اٹھائے تاکہ معاہدے کی مکمل بحالی ممکن ہو سکے۔ امریکہ کی جانب سے مبینہ ‘تضادات’ اور ‘ضرورت سے زیادہ مطالبات’ ان مذاکرات کو مزید مشکل بنا رہے ہیں جہاں ہر فریق اپنے مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ویانا میں جاری مذاکرات میں پیش رفت سست روی کا شکار ہے اور دونوں فریقین کے درمیان اب بھی اہم اختلافات موجود ہیں۔ عالمی برادری ان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ جوہری معاہدے کی بحالی خطے میں استحکام کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ ایران نے اگرچہ سفارتی عمل میں دوبارہ شمولیت اختیار کی ہے، لیکن اس کا اصرار ہے کہ امریکہ کو اپنی پالیسیوں میں حقیقی تبدیلی لانی ہوگی تاکہ تعطل کو ختم کیا جا سکے اور ایک قابل قبول حل تک پہنچا جا سکے۔




