وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے نواب شاہ میں ایک نجی بینک کے دو سیلری اکاؤنٹس سے ایک ارب روپے سے زائد کی مشکوک ٹرانزیکشنز کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ انکشاف اس وقت ہوا جب بینک کے اندرونی نظام میں غیر معمولی سرگرمی دیکھی گئی، جس کے بعد ایف آئی اے نے فوری کارروائی کی۔
ابتدائی معلومات کے مطابق، یہ ٹرانزیکشنز بظاہر عام سیلری اکاؤنٹس سے کی گئی ہیں، جو اتنی بڑی رقم کی نقل و حرکت کے لیے غیر معمولی ہیں۔ ایف آئی اے کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ان اکاؤنٹس میں اتنی بڑی رقم کی موجودگی اور پھر اس کی منتقلی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے، اور یہ منی لانڈرنگ یا دیگر مالیاتی جرائم کی جانب اشارہ کر سکتی ہے۔
ایف آئی اے نے بینک حکام سے ریکارڈ طلب کر لیا ہے اور اکاؤنٹس ہولڈرز کی تفصیلات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ تحقیقاتی ٹیم اس بات کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا یہ ٹرانزیکشنز کسی منظم گروہ کا حصہ ہیں یا اس میں بینک کے اندرونی افراد بھی ملوث ہیں۔ مزید تحقیقات جاری ہیں اور توقع ہے کہ جلد ہی اس معاملے میں مزید گرفتاریاں یا اہم پیش رفت سامنے آئے گی۔

