اسلام آباد: پاکستان اور بھارت نے قونصلر رسائی سے متعلق 2008 کے معاہدے کے تحت اپنی تحویل میں موجود قیدیوں کی فہرستوں کا باقاعدہ تبادلہ کیا ہے۔ یہ تبادلہ سفارتی ذرائع سے بیک وقت اسلام آباد اور نئی دہلی میں ہوا۔ اس اقدام کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تعلقات کو فروغ دینا اور قیدیوں کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق، پاکستان نے اپنی تحویل میں موجود بھارتی قیدیوں کی فہرست بھارت کے حوالے کی ہے، جس میں سویلین اور ماہی گیر دونوں شامل ہیں۔ اسی طرح، بھارت نے بھی اپنی جیلوں میں قید پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات پاکستان کے ساتھ شیئر کی ہیں۔ یہ تبادلہ ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو ہوتا ہے، اور یہ دونوں ممالک کی جانب سے قونصلر رسائی فراہم کرنے اور قیدیوں کی جلد رہائی کے لیے کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔
اس تبادلے کا بنیادی مقصد قیدیوں کی حالت زار کو بہتر بنانا اور ان کے اہل خانہ کو ان کے بارے میں معلومات فراہم کرنا ہے۔ دونوں ممالک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ان فہرستوں کی بنیاد پر قیدیوں کو قونصلر رسائی فراہم کریں گے اور ان کی جلد وطن واپسی کے لیے اقدامات کریں گے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی برادری بھی اس طرح کے تبادلوں کو سراہتی ہے، کیونکہ یہ انسانیت کے اصولوں کی پاسداری اور قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔


