اسرائیلی وزیر دفاع نے ایک چونکا دینے والا دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ آئندہ دو دنوں میں دوبارہ بھڑک سکتی ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی طاقتیں، بالخصوص امریکہ، ایران کے ساتھ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس انتباہ نے مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید بڑھا دیا ہے اور علاقائی امن کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
وزیر دفاع نے اپنے بیان میں کسی خاص واقعے یا انٹیلی جنس معلومات کا حوالہ نہیں دیا، تاہم ان کا یہ دعویٰ خطے میں ایران اور اس کے اتحادیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام پر شدید تحفظات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیل طویل عرصے سے ایران کو اپنی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا آیا ہے، اور اس کے جوہری عزائم کے ساتھ ساتھ خطے میں اس کے پراکسی گروہوں کی حمایت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
دوسری جانب، امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پس پردہ سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ان کوششوں کا مقصد خطے میں کسی بھی بڑے تصادم کو روکنا اور جوہری معاہدے کی بحالی کے امکانات کو تلاش کرنا ہے۔ امریکی حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے پرعزم ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع کا یہ بیان ان سفارتی کوششوں کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی نازک صورتحال سے دوچار ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں پہلے سے ہی کئی محاذوں پر کشیدگی عروج پر ہے، اور ایسے میں اسرائیل کی جانب سے اس طرح کا انتباہ خطے میں غیر یقینی کی صورتحال کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہیں بلکہ فریقین کے درمیان غلط فہمیوں کو بھی جنم دے سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک غیر ارادی تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ آنے والے دن مشرق وسطیٰ کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہوں گے، جہاں امن اور جنگ کے درمیان توازن بہت نازک ہے۔


