اسرائیل کا یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے لیے فلسطینیوں کی ضبط شدہ زمین ایک ڈالر میں لیز پر دینے کا فیصلہ

اسرائیل نے یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے کمپلیکس کی تعمیر کے لیے فلسطینیوں کی ضبط شدہ زمین امریکہ کو صرف ایک ڈالر کے عوض لیز پر دے دی ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یروشلم کی حیثیت پر عالمی سطح پر شدید تنازعہ موجود ہے اور فلسطینی اس شہر کے مشرقی حصے کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت سمجھتے ہیں۔

امریکی سفیر کے مطابق، اسرائیل نے یہ زمین 99 سال کی طویل مدت کے لیے لیز پر دی ہے، جس کے تحت واشنگٹن کو صرف ایک ڈالر کی علامتی رقم ادا کرنا ہوگی۔ یہ معاہدہ امریکی سفارت خانے کے کمپلیکس کی تعمیر کے لیے کیا گیا ہے، جو کہ 2018 میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا گیا تھا، جس پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔

فلسطینی حکام اس زمین کو اپنی ملکیت قرار دیتے ہیں اور اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔ یروشلم کا مشرقی حصہ، جسے فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت سمجھتے ہیں، 1967 کی جنگ میں اسرائیل نے قبضے میں لے لیا تھا۔ اس معاہدے سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافے کا امکان ہے اور یہ امن عمل کے لیے مزید پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔

  • Related Posts

    پولینڈ میں ہزاروں افراد کا مفت اور قانونی اسقاط حمل کے حق میں احتجاج

    پولینڈ میں ہزاروں افراد نے ملک بھر میں مفت اور قانونی اسقاط حمل تک رسائی کے حق میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ یہ مظاہرے پولینڈ کی اعلیٰ ترین عدالت کی جانب…

    ٹرمپ کا دعویٰ: مسک نے یوکرین کے لیے سٹارلنک کی رسائی بحال کر دی

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایلون مسک نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران یوکرین کے لیے سٹارلنک انٹرنیٹ سروس کی رسائی…

    Leave a Reply

    Your email address will not be published. Required fields are marked *

    ×

    ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں!

    تازہ ترین خبریں اور اسپین کی اہم ترین اپ ڈیٹس براہ راست اپنے ای میل پر حاصل کریں۔