واشنگٹن: امریکی خبر رساں ادارے ایکسیس (Axios) کے مطابق، امریکہ اور ایران ایک ممکنہ معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں جس میں جنگ بندی میں توسیع اور ایران کو عالمی منڈی میں تیل فروخت کرنے کی اجازت شامل ہے۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی اور سفارتی تعطل کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس مجوزہ معاہدے کے تحت فریقین علاقائی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک عارضی جنگ بندی میں توسیع پر متفق ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، ایران پر عائد بعض پابندیوں میں نرمی کی جائے گی تاکہ اسے عالمی منڈی میں اپنا تیل فروخت کرنے کی اجازت مل سکے۔ ایران کی تیل کی فروخت پر عائد امریکی پابندیاں اس کی معیشت پر شدید اثرات مرتب کر چکی ہیں، اور ان پابندیوں میں نرمی تہران کے لیے ایک بڑی اقتصادی راحت کا باعث بنے گی۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ امریکہ اور ایران کے تعلقات میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے اور خطے میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہو گا۔ تاہم، اس معاہدے کی حتمی شکل اور اس کے طویل مدتی اثرات کا تعین ابھی باقی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جوہری پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ جیسے دیگر اہم مسائل پر اختلافات اب بھی موجود ہیں، لیکن یہ پیش رفت سفارتی حل کی جانب ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

