جنوبی بھارت کے کئی علاقوں میں شدید گرمی کی لہر نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 16 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق، گرمی کی شدت غیر معمولی سطح پر پہنچ گئی ہے، جس سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر بزرگ اور مزدور شامل ہیں جو کھلے آسمان تلے کام کرنے پر مجبور تھے۔
محکمہ موسمیات نے جنوبی ریاستوں بشمول آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کرنے کی اطلاع دی ہے، جو کہ اس موسم کے اوسط درجہ حرارت سے کہیں زیادہ ہے۔ شدید گرمی اور لو کے تھپیڑوں نے لوگوں کو گھروں میں محصور کر دیا ہے، جبکہ دن کے اوقات میں سڑکوں پر سناٹا چھایا رہتا ہے۔ ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور پانی کی کمی کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، اور طبی عملے کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
مقامی حکام نے شہریوں کو دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے، زیادہ سے زیادہ پانی پینے، اور ہلکے لباس پہننے کی ہدایت کی ہے۔ اس کے علاوہ، عوامی مقامات پر ٹھنڈے پانی کے مراکز قائم کیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو گرمی کی شدت سے بچایا جا سکے۔ ماہرین موسمیات نے آئندہ چند روز تک گرمی کی شدت میں کمی نہ آنے کی پیش گوئی کی ہے، جس کے پیش نظر مزید احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

