کراچی میں رینجرز کیمپ پر ہونے والے حملے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے اس واقعے کے ماسٹر مائنڈز کی نشاندہی کر دی ہے۔ سی ٹی ڈی نے اپنی ابتدائی رپورٹ انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت میں جمع کروا دی ہے، جس میں کالعدم جماعت الاحرار کے ایک کمانڈر سمیت چھ دہشت گردوں کو اس حملے کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ حملے کی گہرائی سے تحقیقات اور ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
سی ٹی ڈی کی رپورٹ کے مطابق، ان دہشت گردوں نے رینجرز کیمپ پر حملے کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درآمد میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تفتیشی حکام نے جدید تکنیکی شواہد، انٹیلی جنس معلومات اور گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ان افراد کی شناخت کی۔ رپورٹ میں حملے کی نوعیت، استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ یہ پیش رفت دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم کامیابی سمجھی جا رہی ہے، کیونکہ اس سے حملے کے پیچھے کارفرما عناصر کو بے نقاب کرنے میں مدد ملی ہے۔
عدالت میں رپورٹ جمع ہونے کے بعد اب ان ملزمان کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ کالعدم جماعت الاحرار پاکستان میں کئی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث رہی ہے اور اس کی سرگرمیوں کو ملک کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ ایسے تمام عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے۔ یہ رپورٹ دہشت گردی کے خلاف قومی عزم اور سکیورٹی اداروں کی مستعدی کا مظہر ہے۔




