سیول: جنوبی کوریا میں کافی کی مشہور عالمی چین سٹاربکس کے پری پیڈ بیلنس 28 ملین ڈالر (تقریباً 7.8 ارب پاکستانی روپے) سے تجاوز کر گئے ہیں، جس کے بعد کمپنی کے مالی معاملات کی نگرانی کے حوالے سے نئے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صارفین کی جانب سے پیشگی ادائیگیوں کے ذریعے کمپنی کے پاس جمع ہونے والی خطیر رقم کے انتظام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ پری پیڈ بیلنس صارفین کی جانب سے سٹاربکس کارڈز یا موبائل ایپ کے ذریعے کی جانے والی پیشگی ادائیگیوں پر مشتمل ہیں، جو انہیں کافی اور دیگر مصنوعات خریدنے کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، اتنی بڑی رقم کا ایک نجی کمپنی کے پاس جمع ہونا، جو کسی مالیاتی ادارے کی طرح سخت ریگولیٹری نگرانی کے تحت نہیں آتی، حکام اور صارفین دونوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بڑے فنڈز کے لیے شفافیت اور مناسب حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مالی نگرانی کے خدشات کے باوجود، سٹاربکس کوریا کو حال ہی میں مقامی کسانوں کی حمایت اور زرعی شعبے میں ان کی معاونت پر حکومت کی جانب سے تعریفی سند سے نوازا گیا ہے۔ یہ اعزاز کمپنی کی مثبت سماجی ذمہ داری کو اجاگر کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی اس کے مالیاتی نظام میں مزید شفافیت اور نگرانی کی ضرورت پر بھی زور دیتا ہے تاکہ صارفین کے اعتماد کو برقرار رکھا جا سکے۔

