گزشتہ چار سالوں کے دوران بیجنگ اور کینبرا کے درمیان تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم اب چین کے سفیر نے ‘سرد جنگ کی ذہنیت’ کے بارے میں خبردار کیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان گہری کشیدگی کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آسٹریلیا کی جانب سے چین پر دباؤ ڈالنے کی کوششوں کو بیجنگ کی جانب سے مزید سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
چینی سفیر کا یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تعلقات میں ظاہری بہتری کے باوجود، دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلافات اور عدم اعتماد برقرار ہیں۔ ‘سرد جنگ کی ذہنیت’ کی اصطلاح عام طور پر عالمی طاقتوں کے درمیان نظریاتی محاذ آرائی، عدم اعتماد اور پراکسی جنگوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ آسٹریلیا نے ماضی میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کی ہے، جس میں تجارتی پالیسیاں، علاقائی سلامتی کے خدشات اور انسانی حقوق کے مسائل شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انتباہ بیجنگ کی جانب سے کینبرا کو ایک واضح پیغام ہے کہ وہ اپنے علاقائی اور عالمی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ صورتحال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے اور مستقبل میں تعاون کے امکانات پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آسٹریلیا اس انتباہ پر کیا ردعمل ظاہر کرتا ہے اور کیا سفارتی کوششیں اس ‘سرد جنگ کی ذہنیت’ کو ختم کرنے میں کامیاب ہو پاتی ہیں۔

