سعودی عرب نے مملکت میں غیر ملکیوں کو جائیداد کی ملکیت کے حوالے سے نئے قواعد و ضوابط کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ اقدام ملک کی اقتصادی اصلاحات اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس نئی پالیسی سے غیر ملکی سرمایہ کاروں اور رہائشیوں کے لیے سعودی عرب میں جائیداد خریدنا ممکن ہو سکے گا، جو پہلے محدود تھا۔
یہ فیصلہ سعودی عرب کے ویژن 2030 کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد تیل پر انحصار کم کرنا اور معیشت کو متنوع بنانا ہے۔ جائیداد کی ملکیت کے قواعد میں نرمی سے رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا، جس سے ملک کی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سعودی عرب کو عالمی سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش بنائے گا اور اسے ایک جدید عالمی مرکز کے طور پر ابھارے گا۔
نئے قواعد کے تحت، غیر ملکی افراد اور کمپنیاں مخصوص شرائط و ضوابط کے تحت رہائشی، تجارتی اور صنعتی جائیدادیں خرید سکیں گی۔ اگرچہ ان قواعد کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، لیکن توقع ہے کہ یہ شفاف اور آسان ہوں گے تاکہ سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ اس پیش رفت کو خطے میں اقتصادی مسابقت بڑھانے اور سعودی عرب کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک ترجیحی منزل بنانے کی ایک اہم کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔





