بلوچستان کے ضلع شیرانی میں پیش آنے والے ایک ہولناک بس حادثے نے ملک بھر کو سوگوار کر دیا ہے۔ کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس کو پیش آنے والے اس المناک حادثے میں کم از کم 40 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ حادثہ اتوار کی صبح شیرانی کے علاقے دانا سر کے قریب پیش آیا، جہاں بس گہری کھائی میں جا گری۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں، تاہم دشوار گزار علاقہ ہونے کے باعث امدادی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اس دلخراش واقعے کے بعد، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے متاثرین کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس سانحے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت دکھ کی اس گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین تک امدادی رقم کی فوری فراہمی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ ان کی جانیں بچائی جا سکیں۔ اس حادثے نے ایک بار پھر سڑکوں پر حفاظتی اقدامات کی اہمیت اور مسافر بسوں کی خستہ حالی کے مسئلے کو اجاگر کیا ہے، جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔





