اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، شزا فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ میں مجوزہ ترامیم وقت کا اہم تقاضا ہیں اور یہ قانون سازی تمام متعلقہ فریقین کے اتفاق رائے سے کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل دور کے چیلنجز سے نمٹنے اور جدید تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے موجودہ قانون میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔
وزیر موصوفہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت، سائبر سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور ڈیٹا کے تحفظ کی اہمیت کے پیش نظر ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کو جدید خطوط پر استوار کرنا ضروری ہے۔ ان ترامیم کا مقصد نہ صرف صارفین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے بلکہ سرمایہ کاروں کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ریگولیٹری فریم ورک کو مضبوط بنانا بھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون سازی کے عمل میں ٹیلی کام انڈسٹری، قانونی ماہرین، سول سوسائٹی اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے وسیع مشاورت کی گئی ہے تاکہ ایک جامع اور قابل عمل قانون تیار کیا جا سکے۔
شزا فاطمہ خواجہ نے امید ظاہر کی کہ ان ترامیم کے نتیجے میں ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر میں جدت آئے گی، خدمات کا معیار بہتر ہوگا اور ملک ڈیجیٹل دنیا میں اپنی پوزیشن مستحکم کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو جدید ترین ڈیجیٹل سہولیات میسر آ سکیں۔





